ذی شان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - شان و شوکت والا، باعظمت، عالی منزلت۔  کوس غِم نوبتِ دل آہ نشانِ عاشق رشک کرتے ہیں مرے نام سے ذیشان کتنے      ( ١٨٦١ء، کلیاتِ اختر، ٧٨٦ ) ٢ - شاندار، مہتمم بالشان۔ "ہر ذی شان چیز بغیر بسم اللہ کے مقطوع ہے یعنی منقطع اور ناقص ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیرِِ ایوبی، ٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے دخیل کلمہ 'ذی' کے ساتھ ہی عربی ہی سے مشتق اسم 'شان' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٨٦١ء کو "کلیات اختر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - شاندار، مہتمم بالشان۔ "ہر ذی شان چیز بغیر بسم اللہ کے مقطوع ہے یعنی منقطع اور ناقص ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیرِِ ایوبی، ٧٦ )